Skip to main content

کیا سمجھتا ہے اپنے پیکر کو 

کیا سمجھتا ہے اپنے پیکر کو
آکبھی دیکھ میرے اندر کو

جانتا تھا میں طرف ساقی کا
میں نے الٹا ہی رکھا ساغر کو

یوں نظر وہ نہیں ہے آنے کا
کر دے آزاد خود سے منظر کو

کوئی سودا نہ سنگ کی امید
لاو پھینک آئیں اب کہیں سر کو

کہتا پھرتا ہے فخری گھر بھر سے
کوئی پہنچا دو اب مجھے گھر کو 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *