Skip to main content

کب تو نے میرے درد کا چارہ نہیں کیا

کب تو نے میرے درد کا چارہ نہیں کیا
پر حق چارہ کر کا خسارہ نہیں کیا

دوزخ بھی دیکھ لیں گے جو مقسوم ہے یہی
کیا میں نے تیرے ساتھ گزارہ نہیں کیا

غیروں نے مجھ کہ پوچھا تو اب کیوں خفا ہو تم
کیا میں تمہارے در پہ پکارا نہیں گیا

کب اپنے حال زار کی بھی فکر میں نے کی
کب میں تمہاری زلف سنوارا نہیں کیا

دل کی کروں میں فکر کہ جان کا سنوں گلہ
سارے جہاں کا میں نے اجارہ نہیں کیا

میری تباہیوں پہ ہیں شرمسار کیوں
میں نے کسی کی سمت اشارہ نہیں کیا

ہے اس کے دشمنوں سے مجھے کیوں مخاصمت
یہ ربط بھی تہ اس نے گوارا نہیں کیا

محفل میں وہ سبھی سے رہے ہم سخن حبیب
میری ہی سمت روے دلارا نہیں کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *