Skip to main content

چاند کچھ کر کے بات چپکے سے

چاند کچھ کر کے بات چپکے سے
لے گیا دل کو رات چپکے سے

برگ آوارہ جا رہا تھا کہیں
ہو لئے ہم ساتھ چپکے سے

کوئی جھگڑا چلا، نہ برف پڑی
آئی پت جھڑ کی رات چپکے سے

صبح کا خواب دیکھ دیکھ نجوم
سو گئے پچھلی رات چپکے سے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *