Skip to main content

نہیں غم کہ زنجیر بستہ چلا

نہیں غم کہ زنجیر بستہ چلا
انہیں دکھ ہے میں ہنستا ہنستا چلا

بھٹکنا ہی تھا ایک نہ ایک دن مجھے
زیادہ ہی میں سیدھا راستی چلا

اجڑتا رہا اندر اندر مدام
میں باہر سے جتنا بھی بستا چلا

ہے ناراض مجھ سے بہت ابر شہر
بیاباں پہ بھی میں برستا چلا

خفا ہیں بہت مجھ سے میرے رقیب
وفاوں کو میں کر کے سستا چلا

تمامی سفر ڈر کا مارا عدو
مری دشمنی کو ترستا چلا

کہوں کیا میں فخری یو اتنا جیا
ستارا میرا پا شکستہ چلا 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *