Skip to main content

 قدر ہم نے ہی نہ جانی شاید

قدر ہم نے ہی نہ جانی شاید
یا جوانی تھی کہانی شاید

دل گلستاں تو نہیں تھا اپنا
صرصر غم تھی دوانی شاید

خیر سے دل کی جگہ پہلو میں
تھا کوئی دشمن جانی شاید

ان کو دیکھا تو خیال آیا ہے
آئی تھی ہم پہ جوانی شاید

پڑ گئی اوس جوان پھولوں پر
بن گئی آگ بھی پانی شاید

جانے کس بات پہ ہنستی تھی کلی
تھی وہ اپنی ہی کہانی شاید

چھیر بیٹھا ہے سر شام حبیب
پھر وہی رام کہانی شاید 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *