Skip to main content

 شندگی موت کی صورت میں بدل جائے گی 

شندگی موت کی صورت میں بدل جائے گی
تم نہ ہو گی مری جان نکل جائے گی

یات کے کوٹھے پہ جا پہنچی ہے امید کی چھوپ
اور کچھ دیر میں یہ دھوپ بھی ڈھل جائے گی

اے مرے درد جگر اور چمک اور چمک
دل بھی بہلے گا ادھر رات بھی ڈھل جائے گی

عقل سمجھتی ہے بدلے گا نہ وہ سرد مزاج
شوق کہتا ہے یہ برف بگھل جائے گی

شکوہ غم سے گراں بار نہ کر اس کو حبیب
کہتے ہیں درد تلک تیری غزل جائے گی 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *