Skip to main content

 دل تو پاگل ہو گیا عشق میں 

دل تو پاگل ہو گیا عشق میں
دل کی باتوں میں نہ آنا چاہے

ان سے راہ رسم ہونا تو کجا
بات کرنے کو زمانہ چاہئے

یا تو ان کا غم ہو یا دنیا کا غم
ایک جانب دل لگانا چاہیے

یا نہ کچے یاد کچھ ان کے سوا
یا بھر ان کو بھول جانا چاہیے

میرا ان سے روٹھنا جرم و گناہ
اور ان کو تو بہانہ چاہیے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *