Skip to main content

اے میرے دل مرض دل کی دوا کوئی نہیں 

اے میرے دل مرض دل کی دوا کوئی نہیں
چارہ درد تڑپنے کے سوا کوئی نہیں

میں تغافل سے مرا غیر توجہ سے مٹا
ان کے عشووں سے غرض یہ کہ بچا کوئی نہیں

آسماں ان کازمین ان کی زمانہ ان کا
جس کو دیکھو وہ انھی کا ہے مرا کئی نہیں

تو وہ کمنام ہے فخری کہ تیرے مرنے پر
ہجوگر کوئی نہیں مدح سرا کوئی نہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *