Skip to main content

اندھیرا ہے بھی تو کیا ہے صدا تو دیتے رہو

اندھیرا ہے بھی تو کیا ہے صدا تو دیتے رہو
ہر ہنہ رات کو اتنی ردا تو دیتے رہو

نظر ملا نہ سکو ہاتھ بھی ہلا نہ سکو
بچھڑنے والوں کو دل میں دعا تو دیتے رہو

بندھن ہیں پاوں ہی رخ توہو جانب منزل
جو چل رہے ہیں انہیں حوصلہ تو دیتے رہو

جلا ہے دل کا لہو تب بنی ہے جا کے یہ آگ
یہ آگ سرد نہ ہو گی ہوا تو دیتے رہو

صلیب نصب جو ہے جاں نثار بھی ہوں گے
سمٹ ہی آئیں گے ساتھی ندا تو دیتے رہو

جو دل میں تیر گئی یاد کند کیوں ہو گئی
پر اس کو گریہ شب سے جلا تو دیتے رہو

خود ایک قرض ہے آواز بھی تو جان حبیب
خواب آئے نہ آئے صلا تو دیتے رہو 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *