Skip to main content

 میں ناسپاس ہوں وہ چارہ گر ہے کیا کہنے

میں ناسپاس ہوں وہ چارہ گر ہے کیا کہنے
چلو بلا سے وہی معتبر ہے کیا کہیے

کہاں کہاں میں کھڑا تیرا انتظار کروں
ہر ایک راہ تری رہگور ہے کیا کہیے

اچانک اس سے سر راہ کیا ہی ساتھ ہوا
کہ اک زمانہ مرا ہم سفر ہے کیا کہیے

بری ہیں نامہ ہو پیغام کے تکلف سے
کہ درمیان میں پیغام بر ہے کیا کہیے

نگاہ بد سے بچائے خدا تجھے فخری
ہر اچھی شکل پہ تیری نظر ہے کیا کہیے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *